24 اپریل 2013 - 19:30
جعلی بم ڈیٹیکٹرز فروخت، برطانوی حکومت زیر سوال

ایک برطانوی میلنیئر پر بہت سے ممالک بشمول پاکستان کو جعلی بم ڈیٹیکٹرز فروخت کرنے پر فرد جرم عائد کئے جانے سے بہت سے سوالات اٹھے ہیں، اس تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ بمبار اور بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں پاکستانی یہ ڈیٹیکٹرز مکمل طور پر ناقص نہ ہونے پر آج زندہ ہوتے۔

ابنا: ایک برطانوی میلنیئر پر بہت سے ممالک بشمول پاکستان کو جعلی بم ڈیٹیکٹرز فروخت کرنے پر فرد جرم عائد کئے جانے سے بہت سے سوالات اٹھے ہیں، اس تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے کہ بمبار اور بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں پاکستانی یہ ڈیٹیکٹرز مکمل طور پر ناقص نہ ہونے پر آج زندہ ہوتے۔ 56سالہ جیمس میک کارمک کو مکمل طور پر غیر موثر ڈیوائسز کی فروخت کے الزام پر لندن کی اولڈ بیلی پر فراڈ کے تین واقعات میں ملوث پایا گیا۔ جنگ نیوز کے مطابق اس کی غیر موثر ڈیوائسز کی بنیاد حیران کن امریکی گالف بال فائنڈر پر رکھی گئی تھی۔ میک کارمک نے اپنے تین مختلف ماڈلز کسٹمرز بشمول عراق، بیلجیئم، اقوام متحدہ، پاکستان، یمن، جارجیا، نائیجر اور کئی دیگر ممالک کو فروخت کرکے تقریباً 50ملین پونڈز کمائے۔ پراسکیوٹر رچرڈ وہٹم نے ارکان جیوری کو بتایاکہ ان ڈیوائسز نے کام نہیں کیا اور کارمک جانتا تھا کہ یہ کام نہیں کریں گی۔ ہر ڈیوائس 27,000پونڈز کے عوض فروخت کی گئی تھی۔ پاکستان میں پرائیوٹ اور سرکاری سکیورٹی فورسز کی جانب سے بم ڈیٹکیٹرز وسیع پیمانے پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم ان حقائق کے منظر عام پر آنے کا مطلب یہ ہے کہ پبلک اور پرائیوٹ ایجنسیوں کو نئے اور حقیقی آلات کی دوبارہ خریداری کرنی ہوگی۔ واضح رہے کہ 40,000پاکستانی نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کے آغاز سے اب تک اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ بہت سے پاکستانی ممکنہ طور پر ان ڈیٹکیٹرز کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔ میک کارمک حکومتوں اور ملٹری کے سربراہوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا کہ یہ ڈیوائسز دھماکہ خیز مواد، منشیات، ہاتھی دانت حتٰی کہ تین میل کے فاصلے پر انسانی موجودگی کا سراغ لگاسکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲